بوریت کا مارا، دنیا کا جیالا اور خوابوں کا شکاری کدھر جاۓ . اگر اس کا باجا ٹوٹ جاۓ، دنیا چھوٹ جاۓ اور شکار روٹھ جاۓ. بس دوستو میرا آج کل یہی حال ہے. کیا بتاؤں کیسے جینا محال ہے. محسن نقوی اور مجھ میں ایک بات مشترک ہےکہ اسے دوستوں سے شکایت تھی اور مجہے بھی انہی سے سے گلہ ہے. چنانچہ اب میں اور محسن کی “رداۓ خواب ” اکٹھے پاۓ جاتے ہیں.
Advertisement
یاروں سے شکوے کی وجہ؟
کوئی “مزید کمینگی” کری انہوں نے
اور دوسروں کی رداؤں کے ساتھ پایا جانا بڑی معیوب بات سمجھی جاتی تھی محسن کے زمانے میں
شکر ہے وہ بیچارہ یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی ٹیں پٹاس ہو گیا؟
کافی اچھا بلاگ ہے
لکھتے رہا کیجئے